LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی: فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ملیریا سے ہلاکت کا واقعہ

News Image
فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر ایک پراسرار واقعے کے بعد ملیریا کے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک ملازم کی موت واقع ہو گئی ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت مچھروں کو پکڑنے والے خصوصی جال نصب کر دیے ہیں۔
جرمنی کے فرینکفرٹ ہوائی اڈے پر ایک انتہائی غیر معمولی اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کر کے آنے والے ایک مچھر کے کاٹنے سے ملیریا پھیل گیا جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ایک ملازم کی موت واقع ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ایئرپورٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے جس نے طبی ماہرین اور انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، مچھر کسی بیرونی ملک سے آنے والی پرواز میں موجود تھا اور طیارہ اترنے کے بعد وہاں موجود عملے کو نشانہ بنایا۔ واقعے کی تصدیق کے بعد ایئرپورٹ انتظامیہ نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں چار مزید ملازمین بھی متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں نے متاثرہ افراد کے خون کے نمونے لینے کے بعد تصدیق کی ہے کہ یہ کیسز عام ملیریا کے بجائے ایسے وائرس سے جڑے ہیں جو خاص طور پر ان علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں سے مذکورہ طیارہ آیا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فرینکفرٹ ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں مچھروں کو پکڑنے کے لیے خصوصی ٹریپس یا جال نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مزید ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔ طبی ماہرین اس بات پر حیران ہیں کہ جہاز کے اندر موجود ماحول کے باوجود مچھر زندہ بچ گیا اور باہر نکل کر انسانوں کو کاٹنے میں کامیاب رہا۔ مقامی محکمہ صحت نے ایئرپورٹ کے تمام ملازمین کو ہدایت جاری کی ہے کہ اگر انہیں بخار یا جسم میں درد جیسی علامات محسوس ہوں تو فوری طور پر طبی معائنہ کروائیں۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا طیاروں کے اندر جراثیم کش اسپرے کے عمل میں کوئی کوتاہی تو نہیں ہوئی جس کی وجہ سے یہ کیڑا محفوظ رہا۔ فی الحال ہوائی اڈے پر نگرانی کا نظام انتہائی سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے بعد اب ایوی ایشن انڈسٹری میں صحت کے پروٹوکولز پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔