LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی فورسز کا قصرہ گاؤں میں محاصرہ، راستے بند

News Image
اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں فلسطینی امریکی شہری لو ریڈی کے گھر کے ارد گرد نئے گیٹ نصب کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں گاؤں کے مکینوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے اور وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک نئی اور تشویشناک کارروائی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے تحت گاؤں کے داخلی راستوں پر آہنی گیٹ نصب کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف فلسطینی امریکی شہری لو ریڈی کا گھر اور ان کے ارد گرد کا علاقہ بتایا جا رہا ہے۔ ان نئے گیٹس کی تنصیب کے بعد علاقے میں مقیم فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مقامی آبادی کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، ان رکاوٹوں نے گاؤں کے مکینوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ عملاً ختم کر دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے بلکہ ہنگامی حالات میں طبی امداد اور دیگر ضروریات تک رسائی بھی ناممکن ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی ریاستی پالیسیوں کا ایک اور حصہ معلوم ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا اور ان کے روزگار کے ذرائع کو ختم کرنا ہے۔ قصرہ گاؤں پہلے ہی آبادکاری کے منصوبوں اور اسرائیلی فوج کے دباؤ کا شکار رہا ہے، تاہم حال ہی میں نصب کیے گئے یہ گیٹ علاقے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کی کارروائیوں کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ لو ریڈی جو کہ ایک امریکی شہری ہیں، ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فورسز اب منظم انداز میں مقامی رہائشیوں پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ مقامی کونسل اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اسرائیل کو ان غیر قانونی رکاوٹوں کو ہٹانے پر مجبور کرے۔ قصرہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے علاقے میں ایک بار پھر بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ رکاوٹیں نہ ہٹائی گئیں تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔