LIVE
Loading Breaking News...

شام میں ایس ڈی ایف کا خاتمہ اور فوجی انضمام کے چیلنجز

News Image
شام میں کرد زیر قیادت ایس ڈی ایف کے تحلیل ہونے کو دمشق کے لیے ایک بڑی سیاسی اور عسکری کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کے کمان اور تعیناتی کے معاملات پر اب بھی اہم سوالات باقی ہیں۔
شام کے پیچیدہ سیاسی اور عسکری منظر نامے میں حال ہی میں ایک اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں کرد قیادت والی سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے تحلیل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسے بشار الاسد کی حکومت اور دمشق کے لیے ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایس ڈی ایف طویل عرصے سے شمالی شام میں خودمختار حیثیت برقرار رکھے ہوئے تھی۔ اس پیشرفت نے شام کی مرکزیت کو مضبوط کرنے کی امیدیں پیدا کر دی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صرف تنظیم کے خاتمے سے ملک کی فوج یکجا نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے۔ فوجی انضمام کے عمل میں سب سے بڑا چیلنج کمان اور کنٹرول کا نظام ہے۔ اگرچہ ایس ڈی ایف کے خاتمے کے بعد ان کے جنگجوؤں کو سرکاری فوج میں ضم کرنے کی بات ہو رہی ہے، لیکن ان کے علاقوں کی سیکیورٹی اور وہاں تعینات کمانڈروں کے مستقبل پر اب بھی غیریقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔ شام کی سرکاری فوج اور کرد فورسز کے درمیان برسوں پرانی کشیدگی اور عدم اعتماد کا خاتمہ ایک رات کا کام نہیں ہے۔ دمشق کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان سابقہ باغی یا نیم خود مختار گروپوں کو کس حد تک اپنی مرکزی فوج میں شمولیت کا اختیار دیتا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی داخلی بغاوت کے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔ مزید برآں، بین الاقوامی طاقتوں کا اثر و رسوخ شام کے فوجی ڈھانچے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ شمالی شام میں مختلف غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت اور ان کے اپنے مفادات اس عمل کو مزید الجھا رہے ہیں۔ کیا دمشق ان تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر پائے گا جہاں کبھی ایس ڈی ایف کا غلبہ تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے مہینوں میں ملے گا۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں ایک متحدہ فوجی نظام کا قیام اولین ترجیح ہے، مگر عملی طور پر تمام ملیشیاز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ایک کٹھن آزمائش ہے۔ آخر کار، شام کا استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ کیا حکومت سیاسی اور عسکری طور پر کرد آبادی کے تحفظات کو دور کر سکتی ہے یا نہیں۔ اگر عسکری انضمام کو صرف طاقت کے زور پر کیا گیا تو یہ ملک میں ایک اور شورش کو جنم دے سکتا ہے۔ دمشق کے لیے اصل کامیابی صرف ہتھیار ڈالنا نہیں، بلکہ ملک کے تمام خطوں کو ایک واحد دفاعی چھتری کے نیچے لا کر پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ عالمی مبصرین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ دمشق اپنے اس تاریخی عسکری انضمام کے عمل کو کیسے پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔