LIVE
Loading Breaking News...

فلسطین ایکشن پر امریکی پابندیاں اور عالمی ردعمل

News Image
امریکی انتظامیہ نے فلسطین ایکشن سمیت متعدد بائیں بازو کی تنظیموں کو نئی پابندیوں کی زد میں لے لیا ہے۔ ان اقدامات کے بعد تنظیم کی جانب سے برطانیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان پر عائد پابندیاں ختم کرے۔
امریکہ کی جانب سے فلسطین ایکشن سمیت بائیں بازو کی متعدد تنظیموں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذکورہ تنظیمیں دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے ان گروپوں کو نشانہ بنانے کے اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطین ایکشن کی رہنما ہدیٰ عموری نے اس حکومتی اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے جبر کا ایک نیا طریقہ کار قرار دیا ہے۔ ہدیٰ عموری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ یہ تعزیری اقدامات درحقیقت ان تمام لوگوں کے لیے ایک ویک اپ کال (بیداری کا پیغام) ہونا چاہیے جو انسانی حقوق کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے اور فلسطین ایکشن پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر اٹھائے۔ ان کا موقف ہے کہ پرامن احتجاج اور حقِ رائے دہی کو روکنے کے لیے اس طرح کی سخت گیر کارروائیاں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں، اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی عالمی سطح پر فلسطینی کاز کے حامی گروپوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک کڑی ہے، تاکہ ان کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم، فلسطین ایکشن جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ ان پابندیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں ہیں اور اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گی۔ برطانیہ میں فلسطین ایکشن پر پابندی پہلے ہی ایک متنازع موضوع رہی ہے اور اب امریکی اقدام کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ برطانیہ کے اندر بھی اس مسئلے پر بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا دیگر مغربی ممالک بھی امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے ایسی ہی پابندیاں عائد کرتے ہیں یا یہ گروپس اپنی آواز بلند کرنے میں مزید کامیاب ہو پاتے ہیں۔