World
ایران کے ساتھ جنگ کب تک جاری رہے گی؟ ٹرمپ کا اہم بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ تہران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات ہر صورت کیے جائیں گے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور موجودہ سفارتی و عسکری صورتحال پر ایک اہم بیان دیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری یہ جنگ یا محاذ آرائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسے قومی مفادات کے لیے ضروری سمجھا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں اور خطے میں عسکری طاقتوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے حلیفوں اور خطے میں موجود اپنے اثاثوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے تاکہ وہ اپنے علاقائی عزائم اور ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو۔ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے جو ان کے گزشتہ دورِ صدارت میں ایران کے خلاف اختیار کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں تہران پر سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے گا، خاص طور پر اس وقت جب دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات میں الجھی ہوئی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ اب براہ راست اقتدار میں نہیں ہیں، تاہم ان کے بیانات امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی کے حامیوں کے درمیان خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ماضی میں ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
مستقبل میں یہ صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔ خطے میں موجود عالمی طاقتیں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔ تاہم، ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات کو سلجھانے کے لیے سخت گیر موقف اب بھی امریکی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔