LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعات کا انکشاف، انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات

News Image
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز میں بدھ کو پیش آنے والی آتشزدگی کی المناک واردات سے چند ہفتے قبل بھی اسی طرح کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا۔ حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں مبینہ غفلت اور بار بار پیش آنے والے واقعات پر اب شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کے روز پیش آنے والی خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس ہسپتال میں آگ لگی ہو، بلکہ بدھ کو پیش آنے والی المناک واردات سے چند ہفتے قبل بھی ہسپتال کے احاطے میں آگ لگنے کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔ اس انکشاف کے بعد ہسپتال انتظامیہ کے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ مقامی ذرائع اور ہسپتال کے عملے کے مطابق پمز کے مختلف حصوں میں بجلی کے شارٹ سرکٹ اور دیگر وجوہات کی بنا پر آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ چند ہفتے قبل پیش آنے والا واقعہ ایک انتباہ تھا جسے انتظامیہ کی جانب سے شاید معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا، جس کا نتیجہ بدھ کے روز ایک بڑے حادثے کی صورت میں نکلا۔ ہسپتال جیسے حساس مقام پر جہاں مریضوں کی بڑی تعداد زیر علاج ہوتی ہے، وہاں بار بار آگ لگنے کے واقعات نہ صرف انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ یہ مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف بھی ہیں۔ اس صورتحال نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور شہری اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہسپتال کے تمام برقی نظام کا مکمل آڈٹ کروایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں موجود آلات اور تاروں کی تنصیب کئی دہائی پرانی ہے جو ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کا باعث بن رہی ہے۔ اگر فوری طور پر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں کسی اور بڑے حادثے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال واقعے کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد انہیں اپنے پیاروں کی جانوں کے حوالے سے مزید خوف محسوس ہو رہا ہے۔ حکومت اور وزارت صحت کو چاہیے کہ وہ پمز ہسپتال کے حفاظتی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کریں اور تربیت یافتہ فائر فائٹنگ ٹیموں کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔ ہسپتال کا انتظامی ڈھانچہ اب ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے اور فوری تدارک کرنے کا متقاضی ہے۔