LIVE
Loading Breaking News...

جاپان کا توانائی بحران، خام تیل کی فراہمی کے لیے نئے راستوں کی تلاش

News Image
جاپان اپنی توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خام تیل کی درآمدات کو متنوع بنانے کی پالیسی پر کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے جاپانی حکومت آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور پائپ لائنز کے متبادل منصوبوں کی حمایت کر رہی ہے۔
جاپان نے اپنی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم تزویراتی اقدام اٹھاتے ہوئے خام تیل کی درآمدات کو متنوع بنانے اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاپانی حکومت کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر توانائی کے سپلائی چین کو محفوظ بنانا ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کا ایک کلیدی راستہ ہے، لیکن اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر جاپان کی توانائی کی ضروریات پر پڑتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اب متبادل حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔ جاپانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملک اب مشرق وسطیٰ کے دیگر خطوں کے ساتھ ساتھ ان پائپ لائن منصوبوں کی حمایت کرنے پر بھی غور کر رہا ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے تیل کی ترسیل ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف سپلائی کے خطرات کو کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ بحرانی صورتحال سے بچنا بھی ہے تاکہ جاپان کی صنعتوں کو تیل کی بلا تعطل فراہمی جاری رہ سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کا یہ فیصلہ عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے تیل پیدا کرنے والے ممالک اور ٹرانزٹ روٹس پر انحصار رکھنے والی دیگر معیشتوں کے لیے بھی نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ جاپان طویل عرصے سے توانائی کے وسائل کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا آیا ہے اور اب حکومت اس انحصار کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نئی شراکت داریوں اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت نہ صرف نئے سپلائی روٹس تلاش کیے جا رہے ہیں بلکہ تیل کے ذخائر کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے جاپان اپنی معیشت کو کسی بھی قسم کے بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کا عزم رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔