LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال نرسری وارڈ آگ واقعہ: ویڈیو اور تحقیقات کی تفصیلات

News Image
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں ہسپتال کے انتہائی حساس شعبے میں دھواں اٹھتے اور عملے کو افراتفری کے عالم میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ ہسپتال کی انتظامی غفلت اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے ایک بڑے سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔ واقعے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ نرسری وارڈ میں شیر خوار بچے زیر علاج ہوتے ہیں جن کی جانیں انتہائی نازک ہوتی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے فوری بعد وہاں موجود طبی عملہ بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وارڈ میں موجود آلات اور دیگر سامان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تھی، تاہم حتمی وجوہات کا تعین تحقیقاتی عمل کے بعد ہی ہو سکے گا۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان پمز کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا آگ لگنے کے اسباب میں کوئی انسانی غفلت شامل تھی یا یہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہسپتال بھر میں موجود وائرنگ اور فائر الارم سسٹم کا دوبارہ معائنہ کیا جائے گا تاکہ مریضوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی کو یقینی بنانا چاہیے۔ صرف تحقیقات کافی نہیں، بلکہ ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے تاکہ عوام کا سرکاری ہسپتالوں کے نظام پر اعتماد بحال رہ سکے۔