LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال آتشزدگی: نومولود بچوں کی اموات پر پمز انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں

News Image
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ہلاکتوں نے ہسپتال کی انتظامیہ اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کے بعد لواحقین نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکام نے معاملے کی شفاف تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حال ہی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے نے ہسپتال کی انتظامیہ، خاص طور پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس ہولناک حادثے کے نتیجے میں نرسری میں زیر علاج کئی نومولود بچے جاں بحق ہو گئے، جس سے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہسپتال کے اندرونی ذرائع کے مطابق، آگ لگنے کے بعد فوری طور پر انخلاء کے انتظامات ناکافی تھے جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے ہسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال میں آگ بجھانے والے آلات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا موثر نظام موجود ہوتا تو یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ اس حوالے سے اب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سے جواب طلبی کی جا رہی ہے اور یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ بچوں کی سیکیورٹی اور ہسپتال کے حفاظتی آڈٹ کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے تھے اور وہ کہاں تک موثر تھے۔ دوسری جانب، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد آگ لگنے کی وجوہات اور اس دوران ہونے والی انتظامی غفلت کا تعین کرنا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں الیکٹرک شارٹ سرکٹ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا ہسپتال کے انفراسٹرکچر میں کوئی فنی خامی تھی یا عملے کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی برتی گئی۔ سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے کو صحت کے نظام کی ناکامی قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پمز جیسے بڑے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف پمز ہسپتال کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے بلکہ پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کے معیارات پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عوام اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔