Business
ماہر اقتصادیات ایبی جوزف کوہن کی جانب سے عالمی منڈیوں کے حوالے سے اہم انتباہ
معروف ماہر اقتصادیات ایبی جوزف کوہن نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات غیر متوازن ہیں اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا موجودہ رحجان پائیدار نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو غیر یقینی معاشی صورتحال کے پیش نظر اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
وال سٹریٹ کی معروف تجزیہ کار اور ماہر اقتصادیات ایبی جوزف کوہن نے حالیہ بیانات میں عالمی معیشت کی موجودہ صورتحال اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کوہن کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت فی الحال ایک غیر متوازن راستے پر گامزن ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو مستقبل قریب میں شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، معاشی اشاریے ملے جلے رجحانات ظاہر کر رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں پائیداری کا فقدان نظر آتا ہے۔
کوہن نے خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی بے تحاشا سرمایہ کاری کو 'غیر پائیدار' قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جس طرح سے کمپنیاں اور سرمایہ کار اندھا دھند اے آئی پروجیکٹس میں رقم لگا رہے ہیں، وہ ایک 'ببل' یا بلبلے کی سی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر نئی ٹیکنالوجی کے عروج پر ضرورت سے زیادہ جوش و خروش مارکیٹ کی بنیادی اقدار کو نظر انداز کرنے کا سبب بنتا ہے، اور اے آئی کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے جس کے نتائج طویل المدتی بنیادوں پر تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر، ایبی جوزف کوہن نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی معاشی حالات میں محتاط رویہ اپنانا ہی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین دفاع ہو سکتا ہے۔ کوہن کے مطابق، غیر متوازن ترقی اور مارکیٹ کے غیر متوقع اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ کار صرف رجحانات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کمپنی کی بنیادی معاشی صحت اور منافع بخش صلاحیت کو مدنظر رکھیں۔
آخر میں، کوہن کا یہ تجزیہ سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک اہم انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سرمایہ کاروں نے بروقت احتیاط سے کام نہ لیا تو مارکیٹ میں آنے والا ممکنہ کریش نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے بلکہ مجموعی عالمی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ کوہن کا زور اس بات پر ہے کہ اے آئی کے نام پر ہونے والی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں معقولیت کو ترجیح دی جائے۔