LIVE
Loading Breaking News...

مراکش سپین سرحد سیوتا جھڑپیں تارکینِ وطن کی خبریں

News Image
سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا کے قریب مراکش کی سکیورٹی فورسز اور تارکینِ وطن کے مابین شدید جھڑپیں پیش آئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس خطے میں اس سے قبل بھی ہزاروں افراد رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔
سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا کے قریب مراکش کی پولیس اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے درمیان پرتشدد جھڑپیں رونما ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد نے یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے اس سرحدی علاقے کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔ مراکشی سکیورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور دونوں جانب سے محاذ آرائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سیوتا اور میلیلا کے یہ علاقے یورپ میں داخل ہونے کے خواہشمند افریقی تارکینِ وطن کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم اور حساس گزرگاہ رہے ہیں۔ یہاں اکثر تارکینِ وطن کی طرف سے سرحدی باڑ کو عبور کرنے یا سکیورٹی فورسز کو چکمہ دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جنہیں ناکام بنانے کے لیے ہسپانوی اور مراکشی حکام مشترکہ طور پر سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرتے ہیں۔ حالیہ واقعے میں بھی سکیورٹی اہلکاروں نے سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کیا۔ دوسری جانب، حکمتی اعداد و شمار کے مطابق اس خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران نقل مکانی کے دباؤ میں کسی حد تک تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان سرحدی علاقوں سے اب تک پچیس ہزار سے زائد تارکینِ وطن رضاکارانہ طور پر اپنے آبائی ممالک کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ حکام اس قسم کے اقدامات کو غیر قانونی نقل مکانی کے خاتمے اور تارکینِ وطن کی محفوظ واپسی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ سے یورپ کی طرف نوآبادیاتی اور معاشی بنیادوں پر ہونے والی ہجرت کا بحران فی الحال مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ جب تک خطے میں معاشی مواقع اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، اس قسم کے سرحدی تناؤ اور جھڑپوں کا خدشہ بدستور برقرار رہے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ دونوں جانب سے انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔