World
آبنائے ہرمز بحران: اقوام متحدہ کا بحری ترسیل کے لیے اہم لائحہ عمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بحری گزرگاہوں میں درپیش بحرانوں کے پیش نظر ضروری سامان کی ترسیل کے لیے ایک نئے حفاظتی میکانزم کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانا اور تنازعات کے انسانی اثرات کو کم کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز سمیت دنیا کی اہم بحری گزرگاہوں پر درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں ایک نئے اور جامع میکانزم کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی سطح پر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی چین کو کسی بھی قسم کے تنازعات یا سیاسی کشیدگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا ہرمز، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود جیسے تین بڑے بحری راستوں پر ’ٹرپل چوک پوائنٹ کرائسس‘ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی پیمانے پر قحط اور انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس ضمن میں بھارت سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری کا ماننا ہے کہ اگر ان اہم سمندری راستوں کو محفوظ نہیں بنایا گیا تو توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب ممالک کے لیے شدید مشکلات پیدا کریں گی۔ سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ اعتماد سازی کے اقدامات (Confidence-Building Measures) کے بغیر ان راستوں پر تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا، لہذا تمام متعلقہ فریقین کو ایک میز پر بیٹھ کر تناؤ کم کرنے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان تجارتی راستوں پر جاری کشیدگی نہ صرف بین الاقوامی تجارت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ مجوزہ میکانزم ایک ایسا فریم ورک فراہم کر سکتا ہے جس کے ذریعے کسی بھی بحرانی صورتحال میں بنیادی ضروریات زندگی کی ترسیل کے لیے ’گرین کوریڈورز‘ قائم کیے جا سکیں۔ اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان اتفاق رائے اور ان آبی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
آخر میں، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت عملی اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر خوراک کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ یہ معاملہ اب صرف چند ممالک کے مفادات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پوری انسانیت کی بنیادی ضروریات سے جڑ چکا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ سفارتی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ان گزرگاہوں کو جنگی اور سیاسی اثرات سے پاک رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔