LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کا سوشل میڈیا ایڈکشن کے مقدمات پر اربوں ڈالر کا تصفیہ

News Image
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے الزامات کے تحت دائر قانونی مقدمات کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑے تصفیے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس قانونی جنگ کے خاتمے کے لیے کمپنی ممکنہ طور پر 17 سے 18 ارب ڈالر تک کی خطیر رقم ادا کرے گی۔
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی میٹا (Meta) نے حال ہی میں ایک اہم قانونی پیش رفت کے بعد نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کرنے کے الزامات پر مبنی مقدمات کو نمٹانے کے لیے ایک بڑے تصفیے پر اتفاق کیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ تصفیہ ممکنہ طور پر 17 سے 18 ارب ڈالر کے درمیان متوقع ہے، جو کہ ٹیکنالوجی کی تاریخ کے سب سے بڑے تصفیوں میں سے ایک شمار ہو رہا ہے۔ اس قانونی کارروائی کا آغاز امریکہ میں ان شکایات کے بعد ہوا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن نوجوانوں اور بچوں کو شدید ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ اس تصفیے کے تحت میٹا نہ صرف بھاری رقم ادا کرنے پر راضی ہوئی ہے بلکہ کمپنی کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں اور الگورتھم میں بھی بڑی تبدیلیاں لانے کا پابند کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ محض مالی جرمانہ نہیں ہے، بلکہ یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کی ذہنی صحت کو اولیت دیں۔ اس سے قبل میٹا کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز کے الگورتھم کم عمر صارفین کو نقصان دہ مواد دکھانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ اس تصفیے کے بعد، میٹا اب ان ہزاروں مقدمات سے جان چھڑا سکے گی جو مختلف ریاستوں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے دائر کیے گئے تھے۔ تاہم، اس تصفیے کے باوجود، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نگرانی کرنے والے اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے اثرات کی مزید تحقیقات کی جانی چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصفیہ ٹیکنالوجی اور انسانی رویوں کے مابین جاری کشمکش میں ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔