Technology
بل گیٹس کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے پھیلاؤ پر شدید تحفظات
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے روزگار کے تحفظ اور انسانی حقوق کے پیشِ نظر AI کی ترقی کو ضابطہ اخلاق میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے بانی اور معروف ٹیکنالوجی ماہر بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ دنیا اس وقت جس طرح سے مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثرات کا سامنا کر رہی ہے، اس کے لیے عالمی برادری مکمل طور پر غیر تیار ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ AI صرف ایک تکنیکی ترقی نہیں ہے بلکہ یہ سماجی اور معاشی ڈھانچے کے لیے ایسے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے جنہیں سنبھالنا آنے والے وقت میں بہت مشکل ہو جائے گا۔ گیٹس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں AI کے خطرات کو جس قدر چھوٹا کر کے دکھا رہی ہیں، حقیقت میں یہ ان سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بل گیٹس کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو ایک منظم دائرہ کار میں لایا جائے اور اسے مکمل طور پر آزاد چھوڑنے کے بجائے محدود کیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر لیبر مارکیٹ اور روزگار کے تحفظ کے لیے 'ہیومن ریزروڈ' (Human Reserved) ملازمتوں کا تصور پیش کیا ہے، جس کا مقصد انسانی محنت کو مشینوں کے غلبے سے بچانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر AI کو بغیر کسی ضابطے کے فروغ دیا گیا تو یہ نہ صرف معاشی عدم مساوات میں اضافہ کرے گا بلکہ دنیا بھر میں بے روزگاری کا ایک ایسا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے جس کا اثر پوری نسل پر پڑے گا۔
اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بل گیٹس اب بین الاقوامی سطح پر پالیسی سازوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ ایک متفقہ عالمی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جا سکے۔ گیٹس کا موقف ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو انسانی فلاح و بہبود کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ اسے انسانیت کے لیے ایک خطرہ بننے دیا جائے۔ ان کی یہ تجاویز اس وقت سامنے آئی ہیں جب دنیا بھر میں AI ٹولز کے استعمال پر بحث جاری ہے اور کئی ماہرین اس پر ریگولیشنز کے نفاذ کی حمایت کر رہے ہیں۔