LIVE
Loading Breaking News...

چین کا مصنوعی سورج پروجیکٹ اور دھاتوں کی مارکیٹ میں اہم پیش رفت

News Image
چین نے مصنوعی سورج کے منصوبے کے لیے جدید فیوژن مقناطیس کی تیاری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ساتھ ہی شنگھائی فیوچر ایکسچینج نے تانبے اور ایلومینیم کی تجارت کو وسیع کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
چین کی جانب سے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے فیوژن مقناطیس کی تیاری کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کو ملک کے 'مصنوعی سورج' کے مہتواکانکشی منصوبے کے حصول کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقناطیس جوہری فیوژن کے عمل کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، جس سے مستقبل میں لامحدود اور ماحول دوست توانائی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ اس پروجیکٹ پر کام کا آغاز چینی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب کاروباری اور مالیاتی میدان میں بھی چین نے اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کر لی ہے۔ شنگھائی فیوچر ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور اعلانات کے مطابق، شنگھائی میں تانبے (کاپر) اور ایلومینیم کی تجارت کو وسیع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ان دھاتوں کی مانگ اور رسد کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاروں کے لیے تجارتی مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اپنی صنعتی پیداوار اور سپلائی چین کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ حکومتی سطح پر ہونے والی ان تبدیلیوں کے بعد چین کی اے-شیئر مارکیٹ میں مثبت رجحانات متوقع ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی اور اجناس کی تجارت میں توسیع کا امتزاج چینی معیشت کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔ فیوژن توانائی پر کام کا آغاز جہاں سائنسی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، وہیں کاپر اور ایلومینیم کی تجارتی توسیع سے صنعتی شعبے کو نئی تحریک ملنے کا امکان ہے۔ چینی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے بلکہ بین الاقوامی سطح پر چین کی تجارتی ساکھ بھی مزید بہتر ہو۔ ان پیش رفتوں کے بعد سرمایہ کاروں کی نظریں اب شنگھائی ایکسچینج کی نئی پالیسیوں اور فیوژن ٹیکنالوجی کے اگلے مراحل پر مرکوز ہیں۔