LIVE
Loading Breaking News...

نیپال میں تباہ کن سیلاب: 150 ہلاکتیں، امدادی کارروائیوں کا جائزہ

News Image
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہسپتالوں میں متاثرین کے لواحقین اپنے پیاروں کی خبروں کے منتظر ہیں۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے ایک ہولناک اور تباہ کن فلیش فلڈ کے نتیجے میں اب تک 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ قدرتی آفت کی اس شدید لہر نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق سیلابی ریلے اپنے راستے میں آنے والے گھروں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو بہا لے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ کٹھمنڈو کے مرکزی ہسپتالوں میں اس وقت قیامت خیز مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے سراسیمہ پھر رہے ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہسپتال کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو امید اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ طبی عملے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہسپتال میں زخمیوں کو لانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ڈاکٹروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ اور امدادی اداروں کی جانب سے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم، علاقے میں دشوار گزار راستوں اور موسم کی خرابی کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب اتنی تیزی سے آیا کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ بہت سے خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ نیپالی حکومت نے کہا ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر متاثرین کی بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ موجودہ صورتحال نے پورے خطے میں ایک سوگ کی فضا قائم کر دی ہے، جبکہ بین الاقوامی تنظیمیں بھی متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔