World
جنازہ ڈائریکٹر کو میتوں کی بے حرمتی پر بیس سال قید
مقدمے میں ثابت ہو گیا کہ مجرم نے میتوں کو دفنانے یا جلانے کے بجائے غفلت برتی اور سوگوار خاندانوں کو اجنبیوں کی راکھ تھما دی۔ عدالت نے اس گھناؤنے جرم پر اسے بیس سال قید کی سخت سزا سنائی ہے۔
برطانیہ یا دنیا کے دیگر حصوں میں تدفین کی خدمات فراہم کرنے والے ایک بدنام زمانہ ڈائریکٹر رابرٹ بش کو عدالت نے بیس سال قید کی طویل سزا سنا دی ہے۔ اس شخص پر الزام تھا کہ اس نے اپنے فرائض میں سنگین غفلت برتتے ہوئے مرنے والے افراد کو مقررہ ضابطوں کے تحت دفنانے یا جلانے کے بجائے انہیں نظر انداز کیا۔ اس گھناؤنے فعل کے انکشاف کے بعد نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے بلکہ لواحقین میں بھی شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ ہولناک حقیقت بھی سامنے آئی کہ رابرٹ بش نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ صریح دھوکہ دہی کی اور اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے منتظر غمزدہ رشتہ داروں کو اپنوں کے بجائے مکمل طور پر اجنبی افراد کی راکھ کے ڈبے دے دیے۔ اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور متاثرہ خاندانوں پر جو ذہنی اذیت گزری، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عدالت نے اس کیس کی سماعت کے دوران تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
عدالت میں جج نے رابرٹ بش کے اس عمل کو انتہائی مجرمانہ غفلت اور انسانیت کے منافی قرار دیا۔ پراسیکیوشن ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ کس طرح اس ڈائریکٹر نے پیشہ ورانہ دیانت داری کو پامال کیا اور انسانی لاشوں کی حرمت کا خیال نہیں رکھا۔ فیصلے کے وقت عدالت کے باہر موجود متاثرہ افراد کے لواحقین نے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے مزید سخت قوانین بنائے جانے چاہئیں تاکہ کوئی دوبارہ ایسا گھناؤنا فعل نہ کر سکے۔