LIVE
Loading Breaking News...

خوفناک قاتل جان سوئینی کی جیل میں موت، تفصیلات

News Image
برطانیہ میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک خوف کی علامت بننے والے قاتل جان سوئینی جیل میں انتقال کر گئے۔ سوئینی کو سن 2011 میں اپنی دو سابقہ گرل فرینڈز کو بے دردی سے قتل کرنے اور ان کے ٹکڑے کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
برطانیہ کی تاریخ کے بدترین اور سفاک قاتلوں میں شمار ہونے والے جان سوئینی جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔ جان سوئینی کو سن 2011 میں اپنی دو سابقہ گرل فرینڈز، میلیسا ہالسٹڈ اور پاؤلا فیلڈز کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے اور ان کی لاشوں کے ٹکڑے کر کے نہروں میں پھینکنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، سوئینی کو پوری زندگی جیل میں گزارنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ عدالت نے اسے معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔ جان سوئینی کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب طویل عرصے تک جاری رہنے والی تفتیش کے بعد پولیس کو پاؤلا فیلڈز کی لاش کے ٹکڑے لندن کی ریجنٹ کینال سے ملے۔ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سوئینی نے اس سے قبل 1990 کی دہائی میں اپنی ایک اور ساتھی میلیسا ہالسٹڈ کو بھی قتل کر کے ان کی لاش نیدرلینڈز کی ایک نہر میں ٹھکانے لگا دی تھی۔ وہ اس سفاکانہ عمل میں ملوث ہونے کے باوجود طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے بچتے رہے اور اس دوران کئی بار اپنا حلیہ اور شناخت تبدیل کر کے پولیس کو چکمہ دیتے رہے۔ اپنی سزا کے بعد سے جان سوئینی برطانوی جیل میں تاحیات قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ جیل حکام نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طبی وجوہات کی بنا پر ان کا انتقال ہوا۔ ان کے جرائم کی نوعیت اتنی سنگین تھی کہ انہیں برطانوی تاریخ کے چند سب سے زیادہ خوفناک مجرموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی موت کی خبر کے بعد مقتولین کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے عمل کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے کیس کو ایک عبرت ناک مثال قرار دیا ہے۔