World
نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: برطانوی شہریوں کی گمشدگی پر تشویش
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے جس کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس آفت میں کئی برطانوی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر ہونے والی شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے خطے میں بڑی تباہی مچا دی ہے۔ برطانوی اخبارات کی جمعرات کی اشاعت میں یہ معاملہ مرکزی سرخیوں میں رہا، جہاں حکام کی جانب سے فوری طور پر ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودوں نے متعدد دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت نکال سکیں۔
برطانوی میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، اس قدرتی آفت کے بعد کئی برطانوی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حکومتی ذرائع اس بات کی تصدیق کرنے میں مصروف ہیں کہ آیا یہ شہری کسی تفریحی ٹور یا ٹریکنگ کے دوران وہاں موجود تھے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ نیپال میں موجود اپنے سفارت خانے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور مقامی حکام سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، نیپال کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کا یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان علاقوں میں غیر متوقع بارشیں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے جو سیلاب کا باعث بنتا ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی مشکل ہے کیونکہ گھروں کے علاوہ فصلیں اور مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری نے بھی متاثرین کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کی ہے۔
حکام کی جانب سے سیاحوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ نیپال حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ہیلی کاپٹرز اور خصوصی دستوں کو متحرک کیا ہے تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کے امکان نے حکام کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ متاثرین کی بحالی کے لیے امدادی کیمپوں کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔