LIVE
Loading Breaking News...

جیانی انفانٹینو کی برطرفی: یوفا نے نئی حکمت عملی اپنا لی

News Image
یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن (یوفا) نے فیفا کے مقابلوں کے بائیکاٹ کا ارادہ ترک کر دیا ہے تاہم تنظیم کے سربراہ جیانی انفانٹینو کو ہٹانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔ یہ فیصلہ فٹ بال کی دنیا میں جاری انتظامی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یورپی فٹ بال ایسوسی ایشن (یوفا) نے بدھ کے روز ایک اہم پیش رفت کے دوران فیفا کے زیر اہتمام ہونے والے ٹورنامنٹس کا بائیکاٹ کرنے کا اپنا متنازعہ منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی فٹ بال کی انتظامی تنظیم کے اندر موجود شدید اختلافات اور سیاسی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد فٹ بال کے بین الاقوامی ایونٹس کے شیڈول کو متاثر ہونے سے بچانا تھا۔ اس اعلان کے بعد اب یورپ کے اہم کلب اور ٹیمیں فیفا کی مقررہ عالمی مقابلوں میں معمول کے مطابق شرکت کریں گی۔ تاہم، بائیکاٹ کے منصوبے کو ختم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یوفا اور فیفا کے درمیان اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ یوفا کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ فیفا کے موجودہ صدر جیانی انفانٹینو کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اپنی کوششیں بدستور جاری رکھیں گے۔ یوفا کا ماننا ہے کہ فیفا کی موجودہ پالیسیاں اور انفانٹینو کا کام کرنے کا طریقہ کار یورپی فٹ بال کے مفادات سے متصادم ہے، جس کی وجہ سے مستقبل میں بھی تناؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوفا کے حکام پس پردہ دیگر فٹ بال کنفیڈریشنز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ جیانی انفانٹینو کے خلاف ایک مضبوط محاذ تشکیل دیا جا سکے۔ یوفا کی جانب سے یہ حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فیفا کے انتظامی امور میں تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن وہ اس عمل میں کھیل کے عالمی ایونٹس کو نقصان پہنچا کر خود کو تنہا کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیفا کے دیگر رکن ممالک یوفا کی اس تحریک پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا انفانٹینو اپنے عہدے پر برقرار رہ پائیں گے یا نہیں۔ فیفا اور یوفا کے درمیان یہ کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، جس میں کلبوں کے حقوق، کھلاڑیوں کے شیڈول اور عالمی مقابلوں کے انعقاد جیسے معاملات شامل ہیں۔ بائیکاٹ کے خاتمے نے وقتی طور پر فٹ بال کی دنیا میں ایک سکون پیدا کر دیا ہے، لیکن انتظامی سطح پر جاری یہ رسہ کشی آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ فٹ بال کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے فیفا انتخابات یا کانفرنسوں میں اس محاذ آرائی کے مزید اثرات دیکھے جا سکیں گے۔