World
ٹوہونو اوڈھم قبیلے کا امریکی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز
امریکہ کے مقامی ٹوہونو اوڈھم قبیلے نے وفاقی ایجنٹوں پر اپنی قبائلی زمینوں میں غیر قانونی داخلے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ قبیلہ اپنی زمین پر سرحدی دیوار کی تعمیر کو اپنے مذہبی اور ثقافتی حقوق کی پامالی قرار دیتا ہے۔
امریکہ کے مقامی قبائل میں سے ایک ٹوہونو اوڈھم (Tohono O'odham) نے وفاقی حکام کے خلاف ایک اہم قانونی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ قبیلے کا الزام ہے کہ امریکی وفاقی ایجنٹ ان کی خودمختار قبائلی زمینوں پر بلا اجازت داخل ہو رہے ہیں، جو کہ ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی حکومت نے ان کی زمینوں سے گزرنے والی ایک طویل سرحدی دیوار کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا، جس پر قبیلے نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ٹوہونو اوڈھم قبیلے کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرحدی دیوار کی تعمیر نہ صرف ان کے علاقوں میں غیر ضروری مداخلت ہے بلکہ یہ ان کے ثقافتی ورثے اور تاریخی مقامات کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ قبیلے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی زمینیں ان کے لیے مقدس حیثیت رکھتی ہیں اور حکومت کی جانب سے سرحد کی سیکیورٹی کے نام پر وہاں تعمیراتی کام کرنا ان کے مقامی حقوق کی سراسر پامالی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس تعمیراتی کام کو فوری طور پر روک دیا جائے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرحدی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ایک قومی ترجیح ہے جس کے لیے سرحدوں کی مضبوطی ناگزیر ہے۔ تاہم قبیلے کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حکومت کو کسی بھی تعمیراتی منصوبے سے قبل مقامی آبادی کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تھی جو کہ یہاں نہیں کی گئی۔ اس مقدمے کو مقامی باشندوں کے حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان جاری کشمکش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی عدالت مقامی قبیلے کے تحفظات کو کس طرح دیکھتی ہے۔ اگر عدالت اس تعمیراتی کام کو روکنے کا حکم دیتی ہے تو یہ مقامی باشندوں کی ایک بڑی کامیابی ہوگی، جبکہ حکومت کو اپنی سرحدی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ٹوہونو اوڈھم قبیلہ اپنی زمینوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔