World
اسکول کے پرسکون کمروں کے خلاف والدین کا مقدمہ - بی بی سی رپورٹ
برطانیہ میں بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آنے کے بعد دس خاندانوں نے اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کردی ہے۔ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو اسکول کے نام نہاد پرسکون کمروں میں غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
برطانیہ میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں دس خاندانوں نے اسکول انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد عمل میں آئی ہے جس میں اسکولوں میں قائم کردہ مبینہ 'پرسکون کمروں' یا 'کامنگ رومز' کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے گئے تھے۔ متاثرہ والدین کا مؤقف ہے کہ ان کے معصوم بچوں کو ان کمروں میں بند کر کے ذہنی اور جسمانی طور پر نقصان پہنچایا گیا، جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق، ان پرسکون کمروں کو بظاہر بچوں کو پرسکون کرنے یا ان کے رویے کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، تاہم عملی طور پر یہ کمرے بچوں کے لیے اذیت ناک سیل کی مانند بن چکے تھے۔ والدین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک تنہائی میں رکھنے اور سخت ماحول کا سامنا کرنے کی وجہ سے ان کے بچوں کی نفسیاتی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس معاملے نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے اور ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، متعلقہ اسکول حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں اس قسم کے غیر انسانی اقدامات پر فوری پابندی لگائی جائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ والدین کی جانب سے دائر کیے جانے والے اس مقدمے کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جنگ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔