LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی تنظیم UNRWA پر اسرائیلی حملے اور مستقبل کے خدشات

News Image
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے UNRWA کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کا مقصد اس تنظیم کو ختم کرکے فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل منظم انداز میں اس ادارے کو ختم کرنے کے درپے ہے تاکہ فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کو عالمی سطح پر ہمیشہ کے لیے دفن کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بات اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں UNRWA کے تربیتی مرکز پر قبضے اور اسے خالی کرانے کے حالیہ اقدامات کے تناظر میں کہی۔ لازارینی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک گہری سیاسی سازش کارفرما ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی امداد اور ان کی بنیادی شناخت کو ختم کرنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے UNRWA کو ایک 'دہشت گرد' تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی مہم زوروں پر ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر عالمی برادری نے مسترد کر دیا ہے۔ فلپ لازارینی نے واضح کیا کہ UNRWA کا وجود فلسطینی پناہ گزینوں کی امید کی واحد کرن ہے، اور اس ادارے کو کمزور کرنا براہ راست ان لاکھوں افراد کے حقوق پر حملہ ہے جو دہائیوں سے اپنے وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے حالیہ اقدامات انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں جس سے غزہ کی پٹی میں پہلے سے جاری انسانی بحران مزید سنگین ہو چکا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق، اگر اسرائیل UNRWA کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف غزہ بلکہ اردن، لبنان اور شام میں مقیم لاکھوں فلسطینی مہاجرین پر بھی پڑیں گے جو اپنی تعلیم، صحت اور خوراک کے لیے مکمل طور پر اسی ادارے پر انحصار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحرانی صورتحال میں UNRWA کا ساتھ دے اور اسرائیل کو اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز رکھے، کیونکہ اس ادارے کا خاتمہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور طویل المدتی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ آخر میں، لازارینی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ UNRWA اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود فلسطینی مہاجرین کی خدمت جاری رکھے گا اور اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ رکاوٹوں کو قانونی اور سفارتی سطح پر چیلنج کرے گا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف زمین کا نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی بقا اور ان کے حق خودارادیت کا ہے جسے طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔