World
اسرائیل کے قبضے سے فلسطینی لاشوں کی واپسی کا مطالبہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے اسرائیل کے قبضے میں موجود اپنے پیاروں کی لاشوں کی فوری واپسی کے لیے احتجاجی مظاہرے اور شمع روشن کرنے کی تقریبات منعقد کیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے لاشوں کو روکنا بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں مختلف مقامات پر فلسطینی شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قبضے میں موجود 1,700 فلسطینیوں کی لاشیں فوری طور پر ورثا کے حوالے کرے۔ اس سلسلے میں مختلف شہروں میں شمع روشن کرنے کی تقریبات اور پرامن اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جن میں بڑی تعداد میں عام شہریوں اور لواحقین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لاشوں کی واپسی کے حق میں نعرے درج تھے۔
لواحقین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کو روایتی اور مذہبی طریقے سے دفن کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن اسرائیلی حکام نے برسوں سے ان لاشوں کو بغیر کسی واضح قانونی جواز کے اپنے پاس روک رکھا ہے۔ اس ظالمانہ اقدام کی وجہ سے شہداء کے خاندان شدید ذہنی اذیت اور دکھ سے دوچار ہیں کیونکہ وہ اپنے پیاروں کی آخری رسومات بھی ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاشوں کے تبادلے اور واپسی کے عمل کو یقینی بنائے۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام پیاروں کی لاشیں ان کے حوالے نہیں کی جاتیں، ان کا یہ پرامن احتجاج اور مہم جاری رہے گی۔