Technology
امریکی اداروں پر چینی ہیکرز کے حملے، بڑی کارروائی
امریکی حکام نے چین سے منسلک ہیکرز کے زیر استعمال دو ڈومینز کو ضبط کر لیا ہے جو 2018 سے امریکی سرکاری اداروں کو ہدف بنا رہے تھے۔ یہ کارروائی حساس سرکاری نیٹ ورکس اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے ایک اہم کارروائی کے دوران چینی نژاد ہیکرز کے نیٹ ورک کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ان کے زیر استعمال دو اہم ڈومینز کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ہیکرز طویل عرصے سے امریکی حکومت کے حساس نیٹ ورکس اور اہم سرکاری اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے بلکہ سرکاری معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ہیکرز 2018 سے سرگرم تھے اور ان کی کارروائیوں کا دائرہ کار ناسا، امریکی سینیٹ اور دیگر اہم ریاستی اداروں تک پھیلا ہوا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف اور دیگر سائبر سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق ہیکرز کا یہ گروہ مسلسل سرکاری سرورز میں نقب لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان ڈومینز کے ذریعے ہیکرز نہ صرف حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے بلکہ بعض اوقات سسٹم میں میلویئر داخل کر کے ڈیٹا چوری کے عمل کو بھی انجام دیا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک تھا جسے بین الاقوامی سطح پر ہیکنگ کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کارروائی کے ذریعے ان ہیکرز کے نیٹ ورک کو کمزور کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں سرکاری اداروں کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سائبر جاسوسی کا معاملہ ایک طویل عرصے سے کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے حساس ڈیٹا اور سرکاری نیٹ ورکس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ فی الحال تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان ہیکرز کے نیٹ ورک میں ملوث دیگر کرداروں کا سراغ لگایا جا سکے اور مزید ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔