World
نائیجیریا میں مسجد سے اغوا ہونے والے نمازیوں کی بازیابی کیلئے سرچ آپریشن
نائیجیریا کے شمالی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے مسجد سے بڑی تعداد میں نمازیوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ صدر بولا ٹینوبو نے ملک میں بڑھتے ہوئے اغوا کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری بازیابی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
نائیجیریا کے شمالی حصوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں حال ہی میں ایک مسجد سے عبادت میں مصروف درجنوں نمازیوں کو مسلح گروہ کی جانب سے اغوا کر لیا گیا۔ مقامی حکام اور سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور جنوری میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر حکومت سکیورٹی کے معاملات پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اغوا کاروں کی جانب سے نمازیوں کو اغوا کرنے کا یہ واقعہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر چکا ہے جس کے بعد نائیجیریا کی سکیورٹی فورسز نے بازیابی کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
صدر بولا ٹینوبو نے اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سکیورٹی حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر قیمت پر مغویوں کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔ صدر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے اغوا کے رجحان اور بدامنی کی کارروائیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نائیجیریا کا شمالی علاقہ طویل عرصے سے مسلح گروہوں اور ڈاکوؤں کی زد میں ہے، جو اکثر اجتماعی اغوا کی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان واقعات کے پیچھے بنیادی مقصد بھاری تاوان کا مطالبہ یا سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہوتا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوری میں ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے نائیجیریا کی حکومت کو سکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں مسجد سے نمازیوں کا اغوا وفاقی حکومت کی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے ان علاقوں کی ناکہ بندی کر دی ہے جہاں مغویوں کو لے جانے کے شبہات موجود ہیں۔ تاہم، اب تک کسی بھی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی مغویوں کی رہائی کے لیے کسی مطالبے کی تصدیق کی گئی ہے۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائے۔