LIVE
Loading Breaking News...

برازیل صدارتی انتخابات: فلاویو بولسونارو کا قرض کی حد کا منصوبہ

News Image
برازیل کے سیاست دان فلاویو بولسونارو نے صدارتی امیدوار کے طور پر اپنے مالیاتی وژن کا اعلان کرتے ہوئے قرض کی حد مقرر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خودکار اخراجات میں کٹوتی کرنا ہے تاکہ حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا جا سکے۔
برازیل کی سیاسی فضا میں صدارتی امیدوار فلاویو بولسونارو کے حالیہ بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنے حالیہ سیاسی منشور میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اگر وہ صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوتے ہیں تو برازیل کی معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں گے۔ ان کا سب سے اہم وعدہ ملک کے لیے 'قرض کی حد' (Debt Ceiling) کا نفاذ ہے، جس کا مقصد حکومتی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو لگام دینا ہے۔ بولسونارو کا ماننا ہے کہ ملک کی مالیاتی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ایک ناگزیر قدم ہے۔ اس منصوبے کے تحت، اگر حکومت مقرر کردہ حد سے زیادہ قرض لیتی ہے تو خودکار طریقے سے اخراجات میں کٹوتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ قدامت پسند حلقے، جو طویل عرصے سے حکومتی اخراجات پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، اس اقدام کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی کے ذریعے ایسے سماجی پروگراموں اور منصوبوں کے اخراجات کو محدود کیا جا سکے گا جنہیں غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی کٹوتیوں سے جہاں ایک طرف بجٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی، وہیں دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اس پر شدید تنقید بھی متوقع ہے۔ فلاویو بولسونارو کے ناقدین کا کہنا ہے کہ قرض کی حد کا نفاذ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو شدید متاثر کر سکتا ہے، جس سے غریب طبقے کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ تاہم، بولسونارو اور ان کے حامی اس موقف پر قائم ہیں کہ برازیل کی معاشی بحالی کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب تک ریاست اپنے اخراجات کو آمدنی کے مطابق متوازن نہیں کرے گی، ملک میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کا مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ آنے والے انتخابات میں یہ معاشی منصوبہ ایک مرکزی موضوع بن کر ابھرنے کا امکان ہے، جہاں ووٹرز کو ملک کے مستقبل کے لیے دو مختلف معاشی نقطہ نظر میں سے انتخاب کرنا ہوگا۔