LIVE
Loading Breaking News...

تیونس میں 8 تارکین وطن کی تدفین، سمندری راستوں سے ہجرت کا المیہ

News Image
تیونس کے ساحلی شہر بن قردان میں سمندری حادثے میں جاں بحق ہونے والے آٹھ نوجوان تارکینِ وطن کی تدفین کر دی گئی۔ مقامی شہریوں اور لواحقین کی بڑی تعداد نے غمگین ماحول میں ان آخری رسومات میں شرکت کی۔
تیونس کے ساحلی قصبے بن قردان میں بدھ کے روز ایک انتہائی افسوسناک منظر دیکھا گیا جہاں مقامی رہائشیوں نے آٹھ نوجوان تارکینِ وطن کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ یہ نوجوان سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران پیش آنے والے ایک المناک حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی لاشیں ملنے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی اور انسانی اسمگلنگ کے ان خطرناک راستوں پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، بن قردان کے قبرستان میں ان نوجوانوں کی تدفین کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ غمزدہ لواحقین اور شہر کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان آخری رسومات میں شرکت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کی مغفرت فرمائے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ شمالی افریقہ سے یورپ کی جانب ہجرت کرنے والے تارکینِ وطن کتنے سنگین خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ بحیرہ روم میں کشتیوں کے حادثات اب معمول بن چکے ہیں جس میں ہر سال سیکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ تیونس طویل عرصے سے افریقہ سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ رہا ہے۔ بن قردان جیسے ساحلی شہروں سے اکثر نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر سمندر میں اترتے ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کر چکی ہیں، لیکن معاشی مجبوریوں اور روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث نوجوان طبقہ اب بھی ان خطرناک راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ کی جانب سے بھی سمندری راستوں کی نگرانی سخت کرنے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان ممالک میں معاشی استحکام نہیں آتا اور نوجوانوں کو اپنے ملک میں ہی باعزت روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، اس طرح کے المیے پیش آتے رہیں گے۔ تیونس حکومت پر بھی یہ دباؤ ہے کہ وہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔