Politics
انکم ٹیکس حصہ تجاویز: اینڈي برنهم تنقید کی زد میں
برطانوی سیاست میں انکم ٹیکس کا ایک حصہ میئرز کو دینے کی تجاویز پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ کنزرویٹو میئر لارڈ ہائوچن نے اس رقم پر ریبیٹ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے جبکہ وزیراعظم کا موقف ہے کہ یہ فنڈز کمیونٹیز کی بہتری پر خرچ ہونے چاہئیں۔
برطانیہ میں سیاسی ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب انکم ٹیکس کا ایک حصہ علاقائی میئرز کو دینے کے منصوبے سامنے آئے۔ اس معاملے پر لیبر اور کنزرویٹو رہنماؤں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور اینڈي برنهم کو اس حوالے سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا ٹیکس کی اس رقم کو براہ راست عوام تک ریبیٹ کی صورت میں پہنچایا جانا چاہیے یا اسے اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔دوسری جانب، ٹরি میئر لارڈ ہائوچن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ٹیکس کے حصص کو مقامی شہریوں کے لیے ریبیٹ یا چھوٹ کی صورت میں پیش کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو براہ راست ریلیف ملے گا اور ان کی مالی مشکلات میں کچھ کمی واقع ہو سکے گی۔ تاہم، مرکزی حکومت اور بالخصوص وزیراعظم کی جانب سے اس سوچ کی مخالفت کی جا رہی ہے اور اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔وزیراعظم کا مؤقف اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ میئرز کو ملنے والے اس فنڈ کو ذاتی یا انفرادی ریبیٹ کی نذر کرنے کے بجائے اجتماعی نوعیت کے امور پر لگایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ان رقوم کو متعلقہ کمیونٹیز کی بنیادی ڈھانچے کی بہتری، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر دوبارہ سرمایہ کاری (reinvest) کیا جانا زیادہ سودمند ثابت ہوگا۔ اس بحث نے ملک بھر کے مقامی حکومتوں کے اختیارات اور مالی خودمختاری کے حوالے سے ایک نئی ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازعہ مزید طول پکڑ سکتا ہے کیونکہ میئرز اپنے اختیارات میں اضافے اور مقامی سطح پر مالی فیصلے کرنے کی آزادی کے حق میں ہیں۔ عوام اور سیاسی تجزیہ کار اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ تجاویز عملی جامہ پہن پاتی ہیں یا حکومت کی مزاحمت کی وجہ سے اس پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی کی جاتی ہے۔