LIVE
Loading Breaking News...

گٹک کا ڈرائیور لیس ٹرک فلیٹ بڑھانے کے لیے 200 ملین ڈالر کا حصول

News Image
آٹونومس ٹرکنگ کمپنی گٹک نے اپنی خود کار گاڑیوں کے بیڑے کو وسعت دینے کے لیے 200 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اس فنڈنگ سے کمپنی کا مقصد رواں سال کے اختتام تک اپنے ڈرائیور لیس ٹرکوں کی تعداد کو 100 سے زائد تک پہنچانا ہے۔
خود کار ٹرکنگ کی معروف کمپنی گٹک (Gatik AI Inc.) نے اپنی ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے اور ڈرائیور لیس ٹرکوں کے بیڑے کو بڑھانے کے لیے 200 ملین ڈالر کی سیریز ڈی فنڈنگ راؤنڈ مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری اس کمپنی کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خود کار نظام متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس نئی سرمایہ کاری کے بعد گٹک اب اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو وسیع کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ گٹک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد رواں سال کے اختتام تک سڑکوں پر موجود اپنے خود کار ٹرکوں کی تعداد کو 100 سے زائد تک پہنچانا ہے۔ کمپنی اس وقت درجنوں ٹرکوں کے ساتھ مختلف روٹس پر اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے، تاہم سرمایہ کاری کے اس نئے مرحلے کے بعد اس تعداد میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر مڈل مائل ڈلیوری کے شعبے میں خود کار ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک نئی سمت دے گا، جہاں گٹک پہلے ہی اپنی خدمات کے معیار اور ٹیکنالوجی کی بدولت پہچانی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 2017 میں قائم ہونے والی گٹک کمپنی نے گزشتہ چند سالوں میں خود کار ٹرکنگ انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ کمپنی کا بنیادی کام ریٹیلرز اور بڑے کاروباری اداروں کے لیے مختصر فاصلے پر سامان کی ترسیل کو خود کار اور محفوظ بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گٹک کا یہ ماڈل دیگر خود کار گاڑیوں بنانے والی کمپنیوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ خاص طور پر ہائی وے اور شہروں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔ اس پیشرفت کے بعد اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ گٹک اپنی ٹیکنالوجی میں مزید کیا جدت لاتی ہے اور آیا یہ 100 ٹرکوں کا ہدف وقت پر مکمل ہو پاتا ہے یا نہیں۔ لاجسٹک کے شعبے میں اس طرح کی سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے کہ دنیا اب تیزی سے خود کار اور ڈرائیور لیس ٹرانسپورٹ کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں سامان کی ترسیل کے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔