LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ اور ممکنہ کشیدگی

News Image
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران بدستور جنگی حالت میں ہے اور مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولا جائے گا۔ ایران نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی جارحیت کے جواب میں پیشگی کارروائی کا انتباہ بھی دیا ہے۔
تہران حکومت نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ بدستور جنگی کیفیت میں ہے اور جب تک ان کے پیش کردہ مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک عالمی تجارت کے لیے اہم سمجھے جانے والے راستے 'آبنائے ہرمز' کو بند رکھا جائے گا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز ایک پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور موجودہ حالات میں سمندری راستے کی بندش ان کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ حتمی ہے اور اس پر نظر ثانی تب تک ممکن نہیں جب تک عالمی طاقتیں تہران کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتیں۔ اس بیان کے ساتھ ہی ایران نے خطے میں موجود حریف ممالک اور عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ایران کسی بھی جارحیت کے جواب میں 'پیشگی کارروائی' کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کا یہ بیان خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم مرکز ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی روک تھام عالمی منڈیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی نقل و حرکت اور سیاسی بیان بازی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے ایران کے اس سخت مؤقف پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان صرف ایک سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ اپنی فوجی تیاریوں کا مظاہرہ بھی ہے جس کا مقصد اپنے حریفوں کو کسی بھی قسم کے غلط اقدام سے باز رکھنا ہے۔ تہران نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتیں اس صورتحال پر کیا ردعمل دیتی ہیں اور کیا سفارتی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوئی پیش رفت ہو پاتی ہے یا نہیں۔