Technology
سائبر سیکیورٹی چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے عروج نے سائبر حملوں کی رفتار کو بے پناہ بڑھا دیا ہے، جس سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ادارے شدید خطرات کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کے پھیلاؤ اور سیکیورٹی خلا کو پر کرنے کے لیے اب مربوط پلیٹ فارمز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
دور حاضر میں ٹیکنالوجی کی تیزی سے بدلتی دنیا میں سائبر حملوں کی نوعیت بھی مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ خاص طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ (ANZ) کے خطے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال سائبر کرائم کو 'مشین اسپیڈ' تک لے آیا ہے، جس کا مقابلہ روایتی دفاعی نظاموں کے لیے ممکن نہیں رہا۔ نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جیسے جیسے سائبر حملے خودکار اور ذہین ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے نجی اور سرکاری ادارے خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، بہت سے اداروں کا دفاعی نظام فرسودہ ہونے کی وجہ سے جدید حملوں کی پیش گوئی کرنے اور انہیں روکنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اس خطے میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈیٹا کا منتشر ہونا اور بصیرت کا فقدان ہے۔ مختلف محکموں اور سسٹمز میں ڈیٹا کے الگ الگ خانوں میں بٹے ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی ٹیمیں مجموعی طور پر خطرات کا اندازہ لگانے سے قاصر رہتی ہیں۔ جب تک ڈیٹا کو یکجا نہیں کیا جاتا، تب تک حملہ آوروں کی چالوں کو بھانپنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس صورتحال میں، کسی بھی حملے کی نشاندہی کے بعد اس پر ردعمل دینے کا وقت بہت زیادہ ہو جاتا ہے، جس سے نقصانات کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب ماہرین ایک 'یونیفائیڈ پلیٹ فارم' یا مربوط سیکیورٹی نظام کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ہو اور خودکار طریقے سے تمام نیٹ ورکس پر نظر رکھ سکے۔ جب دفاعی نظام خود بھی مشین کی رفتار سے کام کرے گا، تب ہی وہ دشمن کے جدید سائبر حملوں کو بروقت ناکام بنانے کے قابل ہوگا۔ اداروں کو اپنی سیکیورٹی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے ڈیٹا کے خلا کو پر کرنے اور جدید خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ مستقبل کے ڈیجیٹل خطرات کا سامنا کر سکیں۔