LIVE
Loading Breaking News...

لندن: ہسپتال کے ڈرون منصوبے پر رہائشیوں میں تشویش

News Image
لندن کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ چلڈرن ہسپتال کی جانب سے خون کے نمونے پہنچانے کے لیے ڈرون سروس شروع کرنے کے منصوبے پر مقامی امیر رہائشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی آمدورفت سے ان کی پرائیویسی متاثر ہوگی اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوگا۔
برطانیہ کے مشہور ترین چلڈرن ہسپتال 'گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ' کی جانب سے ڈرون کے ذریعے طبی نمونے اور خون کی فراہمی کے جدید منصوبے نے مقامی علاقے کے امیر رہائشیوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہنگامی حالات میں مریضوں کی جان بچانے اور وقت پر ٹیسٹ رپورٹس پہنچانے کے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم اس منصوبے کے اعلان کے بعد مقامی آبادی نے اسے اپنی پرائیویسی اور سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے اوپر سے مسلسل ڈرونز کا گزرنا نہ صرف ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ یہ شور اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی آواز سے رہائشی علاقوں کا سکون برباد ہوگا اور دن بھر فضا میں ان کی موجودگی سے رہائشی شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ رہائشیوں کا ایک گروپ اس بات پر بھی نالاں ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے سے قبل علاقے کے بااثر افراد سے مشاورت نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی یقیناً جدید دور کی ضرورت ہے لیکن اسے ایسے گنجان آباد اور مہنگے علاقوں کے اوپر سے گزارنا جہاں پرائیویسی کا معیار بہت اونچا ہے، کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ دوسری جانب ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈرون سروس کا مقصد صرف اور صرف طبی سہولیات کو تیز تر بنانا ہے تاکہ ایمرجنسی میں مبتلا بچوں کو بروقت مدد مل سکے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، روایتی ایمبولینس سروس کے مقابلے میں ڈرون ٹیکنالوجی ٹریفک کے مسائل سے بچتے ہوئے خون کے نمونے چند منٹوں میں لیبارٹری پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ہسپتال حکام کا مزید کہنا ہے کہ وہ رہائشیوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے تمام تر حفاظتی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کا مقصد کسی کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ اس تنازعے نے برطانیہ میں ٹیکنالوجی کے عوامی استعمال اور نجی حقوق کے مابین ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا انتظامیہ اس منصوبے پر نظر ثانی کرتی ہے یا اسے عوامی مفاد میں کسی متبادل راستے سے نافذ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس میں ٹیکنالوجی کی افادیت اور شہریوں کے نجی حقوق کا توازن برقرار رہ سکے۔