LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک پر خطرناک ڈرائیونگ: نوجوان پولیس کو چیلنج کرنے لگے

News Image
برطانیہ سمیت کئی ممالک میں نوجوان ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کی خاطر خطرناک ڈرائیونگ کے مناظر ریکارڈ کر کے پولیس کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ حکام نے اس رجحان کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر سستی شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں نوجوانوں کی جانب سے خطرناک اور غیر قانونی اقدامات کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور سامنے آنے والی ویڈیوز سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان ڈرائیورز اب جان بوجھ کر پولیس کو اشتعال دلا رہے ہیں اور گاڑیوں کے ساتھ خطرناک کرتب دکھا کر انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نوجوان پولیس کی گاڑیوں کے پاس سے انتہائی تیز رفتاری سے گزرتے ہیں اور ان تمام لمحات کو باقاعدہ فلمبند کر کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جا سکیں۔ اس طرز عمل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک نئی چیلنجنگ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ سڑکوں پر چلنے والے دیگر معصوم شہریوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اکثر کیسز میں ایسی گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں جو یا تو چوری شدہ ہوتی ہیں یا پھر ان کے کاغذات مکمل نہیں ہوتے۔ ایسے ڈرائیورز کا رویہ انتہائی مغرورانہ ہے اور وہ پولیس کے تعاقب کو بھی ایک کھیل سمجھتے ہوئے اس کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ پولیس حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس قسم کی خود پسندانہ سرگرمیوں پر اب زیرو ٹولرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور ملوث افراد کے خلاف نہ صرف بھاری جرمانے کیے جائیں گے بلکہ انہیں سخت قید کی سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر فوری مقبولیت پانے کا جنون نوجوانوں کو ان غیر اخلاقی اور خطرناک راستوں پر لے جا رہا ہے۔ والدین اور معاشرے کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو ان جان لیوا سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسے تمام مواد کو ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز سے ہٹانے کے لیے متعلقہ کمپنیوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ سڑکوں پر ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے پولیس اب جدید کیمروں اور گشت کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے تاکہ ایسے 'ٹک ٹاک سٹنٹ' کرنے والوں کو موقع پر ہی پکڑا جا سکے اور قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔