Health
سی پی آر ٹریننگ اور خواتین کی جسمانی ساخت: ایک اہم طبی پہلو
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پی آر ٹریننگ کے لیے استعمال ہونے والی عام فلیٹ چیسٹ ڈمیز خواتین کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے نامکمل ہیں۔ خواتین پر سی پی آر کے عمل کو درست اور مؤثر بنانے کے لیے بریسٹ والی ڈمیز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
جدید طبی تحقیق اور ہنگامی حالات میں دی جانے والی ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے ایک اہم بحث نے جنم لیا ہے جس میں سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) ٹریننگ کے دوران استعمال ہونے والی ڈمیز کی ساخت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عام طور پر تربیت کے لیے جو پلاسٹک کے دھڑ یا ڈمیز استعمال کی جاتی ہیں، وہ فلیٹ یعنی ہموار چھاتی والی ہوتی ہیں جو مردوں کی جسمانی ساخت سے تو کافی حد تک مطابقت رکھتی ہیں، لیکن خواتین کے معاملے میں یہ تربیت نامکمل ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کے جسمانی اعضاء مردوں سے مختلف ہوتے ہیں اور انہیں 'چھوٹے مرد' تصور کر کے دی جانے والی تربیت جان بچانے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس مسئلے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہنگامی صورتحال میں جب کسی خاتون کو سی پی آر کی ضرورت ہوتی ہے، تو ایک تربیت یافتہ شخص، جس نے صرف ہموار چھاتی والی ڈمیز پر مشق کی ہو، بریسٹ کی موجودگی کی وجہ سے ہاتھ رکھنے کی درست جگہ کا تعین کرنے میں ہچکچاہٹ یا الجھن کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ تکنیکی الجھن قیمتی سیکنڈز ضائع کر سکتی ہے جو کسی کی جان بچانے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، اگر ٹریننگ کے دوران بریسٹ والی ڈمیز کا استعمال کیا جائے تو افراد میں اس حوالے سے اعتماد پیدا ہوگا اور وہ حقیقت پسندانہ حالات میں زیادہ بہتر طریقے سے کارکردگی دکھا سکیں گے۔
مزید برآں، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خواتین پر سی پی آر کرنے کے دوران ان کے جسمانی تحفظ اور عزتِ نفس کے حوالے سے بھی سماجی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں وہ غلط طریقے سے چھونے یا کپڑے ہٹانے پر قانونی یا اخلاقی مسائل کا شکار نہ ہو جائیں۔ اگر ٹریننگ ڈمیز خواتین کی جسمانی ساخت کے عین مطابق ہوں گی، تو تربیت لینے والے افراد کو یہ سکھایا جا سکے گا کہ کسی خاتون پر سی پی آر کے دوران کپڑوں اور جسمانی اعضاء کو کس طرح سنبھالنا ہے تاکہ جان بھی بچائی جا سکے اور اخلاقی حدود کا بھی خیال رہے۔
آخر میں، یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ طبی تعلیمی اداروں اور فرسٹ ایڈ ٹریننگ مراکز میں ایسی ڈمیز کو لازمی قرار دیا جائے جو صنفی تنوع کو مدنظر رکھتی ہوں۔ صرف ایک قسم کی ٹریننگ ڈمی پر انحصار کرنا طبی شعبے میں صنفی امتیاز کی ایک خاموش شکل ہے۔ اگر ہم واقعی جان بچانے کے عمل کو ہر ایک کے لیے برابر اور مؤثر بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی ٹریننگ کے طریقوں کو حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا، اور اس میں خواتین کے جسمانی خدوخال کے مطابق سی پی آر ڈمیز کا استعمال پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔