Health
بلوغت روکنے والی ادویات: عدالت نے قانونی چیلنج مسترد کر دیا
برطانوی عدالت نے بلوغت کو روکنے والی ادویات کے مجوزہ طبی ٹرائل کے خلاف دائر کی گئی قانونی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اب محققین کے لیے بچوں کی بھرتی کا عمل شروع کرنے کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔
برطانیہ میں بلوغت کو روکنے والی ادویات کے طبی ٹرائل کے خلاف لائی گئی قانونی چیلنج کو عدالت نے مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اب اس متنازعہ تحقیق کے لیے بچوں کی بھرتی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کیا جا سکتا ہے۔ مہم چلانے والے مختلف حلقوں اور افراد نے اس ٹرائل کو رکوانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا تاکہ بچوں پر ان ادویات کے اثرات کے حوالے سے شروع ہونے والے اس مطالعے کو روکا جا سکے۔ تاہم عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست کو خارج کر دیا اور ٹرائل کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اس فیصلے سے متعلقہ طبی اداروں اور محققین کو بڑی قانونی فتح ملی ہے جو طویل عرصے سے اس تحقیق کے انعقاد کے خواہاں تھے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائنسی مطالعے کا مقصد ان ادویات کے طویل المدت اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے تاکہ مستقبل میں اس حوالے سے مزید مستند طبی رہنما اصول وضع کیے جا سکیں۔ دوسری جانب، اس فیصلے کے بعد بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سوسائٹی کے مختلف طبقات کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ایسے ٹرائلز سے نو عمر بچوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ سائنسی برادری کا اصرار ہے کہ یہ تحقیق شواہد پر مبنی ادویات کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ طبی محققین کس طرح اس ٹرائل کا آغاز کرتے ہیں اور اس میں کون سے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔