LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ

News Image
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 12 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 11 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے جس سے مہنگائی کا بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے اضافہ کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 12 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 11 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کے صارفین پر اضافی بوجھ پڑ گیا ہے، اور نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ملک میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ گزشتہ عرصے میں ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے ریلیف کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم تازہ اضافے نے صارفین کی مشکلات میں دوبارہ اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کا تعین کرتے وقت پیٹرولیم لیوی اور عالمی منڈی کے رجحانات کو بنیاد بنایا جاتا ہے تاکہ درآمدی بل کو کنٹرول کیا جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل سے عام آدمی کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ پندرہ روز کے لیے مقرر کی گئی ہیں اور آئندہ جائزے میں عالمی منڈی کے حالات کے مطابق دوبارہ نظرثانی کی جائے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ معاشی استحکام کے لیے اس قسم کے مشکل فیصلے ناگزیر ہیں تاکہ ملکی معیشت کے پہیے کو رواں رکھا جا سکے۔ اس فیصلے کے اثرات اب ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں جہاں پرانے ذخائر ختم ہونے کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کے طوفان کو روکا جا سکے۔ فی الحال ٹرانسپورٹ سیکٹر اور کاروباری حلقے اس نئی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے اخراجات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔