LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سمندری راستوں کے تحفظ اور تجارتی بحران پر اقوام متحدہ کی تشویش

News Image
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دنیا بھر میں سمندری گزرگاہوں پر جاری تنازعات کو عالمی تجارت کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سمندری راستوں پر پابندیاں خوراک اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے اہم ترین سمندری راستوں پر جاری تنازعات عالمی تجارت کی شریانوں کو بری طرح جکڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور بحری آزادی کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ دنیا بھر میں ضروری اشیاء کی بلا تعطل ترسیل ممکن ہو سکے۔ گوتریس کے مطابق، سمندری گزرگاہوں میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال نہ صرف تجارتی لاگت میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم تزویراتی مقامات کے لیے ایک میکانزم تجویز کیا ہے تاکہ وہاں سے خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی نقل و حمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جب سمندری راستے غیر محفوظ ہوتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر غریب ممالک پر پڑتا ہے جہاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ بھارت سمیت دیگر ممالک نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ان تنازعات کے انسانی اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہونا چاہیے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے لیے سفارتی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ گوتریس نے واضح کیا کہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے سمندری حدود اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے، کیونکہ آزادانہ نقل و حمل ہی عالمی استحکام کی بنیاد ہے۔ مستقبل میں کسی بھی بڑے معاشی بحران سے بچنے کے لیے عالمی طاقتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسی حکمت عملی اپنانا ہوگی جس سے سمندری تجارتی راستے ہر قسم کے تنازعات سے محفوظ رہ سکیں۔