World
امریکہ میں آر ایس ایس سربراہ کا دورہ اور مذہبی آزادی کے کمیشن کا پابندیوں کا مطالبہ
امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارتی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ کے دورے کے موقع پر پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دورے اور تنظیم کے نظریات پر نیویارک سمیت مختلف حلقوں میں شدید ردعمل اور بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن (USCIRF) نے ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ کے دورہ امریکہ کے تناظر میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے تنظیم پر پابندیاں عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورہ امریکہ کے حوالے سے وہاں کی سیاسی اور سماجی فضا میں شدید گرما گرمی پائی جا رہی ہے۔ نیویارک شہر میں اس تنظیم کے رہنما کی کسی بھی تقریب کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔دوسری جانب، امریکہ میں مقیم ہندو برادری کے کچھ گروپس نے اس دورے کے حق میں بھی آواز اٹھائی ہے اور سوشل میڈیا بالخصوص 'ایکس' پر معطل ہونے والے اپنے اکائونٹس کی بحالی کے لیے اپیلیں دائر کی ہیں۔ ان گروپس کا مؤقف ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے اور تنقید کے باوجود ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال نے امریکہ میں مقیم ہندوستانی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے اداروں کے درمیان تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے اور اس پر بحث کا سلسلہ طویل ہوتا جا رہا ہے۔یہ تنازع صرف نیویارک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات واشنگٹن اور دیگر اہم امریکی شہروں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مذہبی آزادی کے حامی ادارے بھارتی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس کے حامی اس دورے کو ثقافتی اور فکری مکالمے کا نام دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس دورے کے دوران مزید احتجاج اور پریس کانفرنسز متوقع ہیں، جن پر عالمی میڈیا کی بھی گہری نظر ہے۔