Business
چینی یوآن کی قیمت اور پیپلز بینک آف چائنہ کی حکمت عملی
پیپلز بینک آف چائنہ نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی حوالہ جاتی شرح 6.7840 مقرر کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈیوں میں چینی کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو متوازن کرنا ہے۔
پیپلز بینک آف چائنہ (PBOC) نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کی یومیہ حوالہ جاتی شرح 6.7840 مقرر کر دی ہے، جو کہ گزشتہ روز کی 6.7829 کی شرح سے معمولی فرق ظاہر کرتی ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں چینی کرنسی کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے یہ اقدام کرنسی کی قدر میں تیزی سے ہونے والے اضافے کو روکنے اور اسے ایک مستحکم حد کے اندر رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران چین نے یوآن کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے تاکہ ملکی برآمدات کو مسابقتی رکھا جا سکے۔
ادھر عالمی منڈیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر ایک تنگ رینج کے اندر رہ کر اوپر کی جانب گامزن ہے، جبکہ سرمایہ کار جیکسن ہول میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے متوقع رہنمائی کے منتظر ہیں۔ تجارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا چینی کرنسی اپنی موجودہ قدر کو برقرار رکھ پائے گی یا تجارتی ٹیرف کے خدشات اسے متاثر کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یوآن کی قدر میں اضافے کی رفتار سست پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ عالمی اقتصادی حالات اور چین کی اپنی مانیٹری پالیسی کے درمیان ایک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ آسٹریلوی ڈالر جیسی دیگر کرنسیوں پر بھی اس صورتحال کا اثر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ چینی معیشت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
ماہرین معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی بی او سی کی جانب سے فکسنگ کے اس عمل سے غیر یقینی کی صورتحال میں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔ اگرچہ سرمایہ کاروں کو امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلوں کا شدت سے انتظار ہے، لیکن چین کی جانب سے کرنسی کو کنٹرول کرنے کے لیے اٹھائے گئے یہ اقدامات یہ واضح کرتے ہیں کہ بیجنگ اپنی کرنسی مارکیٹ میں کسی بھی قسم کے اچانک اور شدید جھٹکے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آنے والے دنوں میں یوآن کی سمت کا تعین امریکی پالیسی اور چین کی برآمدی نمو کے اعداد و شمار پر منحصر ہوگا۔