LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمت میں اضافہ، سرمایہ کاری اور فیڈرل ریزرو کا کردار

News Image
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور دھات دوبارہ 4600 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے مستقبل کے شرح سود کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط انداز میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور پیلی دھات دوبارہ 4600 ڈالر فی اونس کی اہم سطح سے اوپر ٹریڈ کرنے لگی ہے۔ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکی مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا سلسلہ برقرار رکھے گا یا افراط زر کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے اپنی پالیسی میں سختی لائے گا۔ امریکی معیشت سے متعلق جاری ہونے والے حالیہ اعداد و شمار، بشمول افراط زر کی شرح (PCE) اور مجموعی ملکی پیداوار (GDP)، نے مارکیٹ کے شرکاء کو تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ کچھ اعداد و شمار توقعات کے مطابق رہے ہیں جس سے سونے کی قیمتوں میں عارضی گراوٹ بھی دیکھنے میں آئی تھی، لیکن سرمایہ کاروں کا ایک بڑا طبقہ سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری تصور کرتے ہوئے اسے خریدنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ڈالر کی قدر میں معمولی تبدیلی اور عالمی سطح پر سیاسی و معاشی حالات نے سونے کی مانگ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں کا انحصار براہ راست امریکی ڈالر کی کارکردگی اور فیڈرل ریزرو کے فیصلوں پر ہے۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونے کی قیمتیں بڑھنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں سرمایہ کار بہت زیادہ محتاط ہیں۔ اگر افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو ممکنہ طور پر فیڈرل ریزرو شرح سود کو بلند رکھنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر سونے کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ فی الحال عالمی مارکیٹ میں 4600 ڈالر کی سطح ایک نفسیاتی رکاوٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے اور اس سے اوپر استحکام سونے کے خریداروں کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر معاشی بحران کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عالمی خبروں اور مرکزی بینکوں کے بیانات پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی لہر کسی بھی وقت اپنا رخ بدل سکتی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران سونے کی حیثیت ایک مضبوط اثاثے کے طور پر برقرار ہے۔