Health
مصنوعی ذہانت کے ذریعے پہلی کامیاب دماغی سرجری کا معجزہ
برطانیہ میں ریس ہیبرٹ نامی مریض کے دماغ سے مصنوعی ذہانت کی لائیو رہنمائی میں رسولی نکالنے کا دنیا کا پہلا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے بغیر اس پیچیدہ سرجری کے دوران مریض کی بینائی جانے کا شدید خطرہ تھا۔
طبی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے ماہرین نے دنیا میں پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) کی لائیو رہنمائی میں دماغی رسولی کو کامیابی کے ساتھ نکال لیا ہے۔ یہ تاریخی سرجری برطانیہ میں انجام دی گئی جہاں ریس ہیبرٹ نامی مریض کے دماغ میں موجود خطرناک رسولی کو جدید اے آئی الگورتھمز کی مدد سے ہٹایا گیا۔ اس سرجری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کیا جاتا تو مریض کی بینائی مکمل طور پر ختم ہونے کا شدید خطرہ تھا۔ اس کامیابی نے نیورو سرجری کے شعبے میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔
سرجری کے دوران استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے سسٹم نے سرجنز کو دماغی بافتوں اور رسولی کے درمیان فرق کرنے میں انتہائی درستگی فراہم کی۔ عام روایتی سرجری میں بعض اوقات صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم اے آئی کی مدد سے ڈاکٹرز انتہائی حساس مقامات پر بھی بغیر کسی غلطی کے آپریشن کرنے کے قابل ہوئے۔ یہ ٹیکنالوجی رئیل ٹائم ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہے، جس سے جراحوں کو آپریشن تھیٹر میں فیصلہ سازی کرنے میں بے مثال معاونت ملتی ہے۔ مریض ریس ہیبرٹ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہے جس نے نہ صرف ان کی جان بچائی بلکہ ان کی بینائی کو بھی محفوظ رکھا۔
ماہرین طب کے مطابق، یہ کامیابی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت طبی شعبے کا لازمی حصہ بن جائے گی۔ اس طرح کی پیچیدہ دماغی سرجریز میں جہاں ہر ملی میٹر کی اہمیت ہوتی ہے، اے آئی انسانی مہارت کے ساتھ مل کر نتائج کو زیادہ محفوظ اور درست بنا رہی ہے۔ اگرچہ یہ ایک آزمائشی مرحلے کی طرح محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی عقل اور مشین کی رفتار مل کر مہلک امراض کا مقابلہ کرنے میں کتنا بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر طبی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہا ہے اور اسے نیورو سرجری میں ایک انقلابی سنگ میل قرار دیا ہے۔
آنے والے وقتوں میں اس ٹیکنالوجی کی مزید بہتری اور وسعت سے دنیا بھر کے ہسپتالوں میں دماغی امراض کے علاج کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ ریس ہیبرٹ کا کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کے درست استعمال سے انسانی زندگیوں کے معیار کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ طبی سائنسدان اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اے آئی کی اس ٹیکنالوجی کو دیگر پیچیدہ سرجریز میں کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ مریضوں کی صحتیابی کے تناسب کو مزید بڑھایا جا سکے۔