World
فیس بک پر گھوڑوں کی خرید و فروخت میں دھوکہ دہی کا انکشاف
فیس بک کے ذریعے گھوڑے خریدنے والے متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ انہیں خطرناک اور پہلے سے زخمی جانور فروخت کیے گئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان گھوڑوں کے غیر محفوظ رویے کی وجہ سے ان کے اہل خانہ کو شدید حادثات کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ذریعے گھوڑوں کی خرید و فروخت کرنے والی ایک خاتون سیلر کے خلاف متعدد شکایات سامنے آئی ہیں، جن میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو خطرناک، بیمار اور پہلے سے زخمی گھوڑے بیچ کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، کم از کم پانچ خواتین نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہیں دھوکہ دہی کے ذریعے ایسے گھوڑے فراہم کیے گئے جو نہ صرف تربیت یافتہ نہیں تھے بلکہ جارحانہ رویے کے حامل تھے۔ ان متاثرین میں سے ایک خاتون نے بتایا کہ جب انہوں نے خریدا گیا گھوڑا اپنی بیٹی کو دیا تو جانور نے اچانک حملہ کرتے ہوئے بچی کے سر پر زوردار لات ماری، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر جانوروں کی آن لائن خرید و فروخت کے حوالے سے حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں گھوڑے بیچتے وقت جانوروں کی صحت اور ان کے ماضی کے بارے میں غلط معلومات دی گئیں اور انہیں ہر طرح سے محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ سیلر نے خریداروں کو گمراہ کرنے کے لیے گھوڑوں کی ظاہری حالت کو بہتر دکھایا، جبکہ حقیقت میں وہ جانور کسی بھی سواری کے لیے مناسب نہیں تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر جانوروں کی خرید و فروخت میں احتیاط کی شدید ضرورت ہے کیونکہ وہاں جانچ پڑتال کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فیس بک انتظامیہ کو ایسی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور ایسے جعل سازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے جو منافع کمانے کی خاطر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی دوسرے خریدار کو اس طرح کی خطرناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔