LIVE
Loading Breaking News...

قطری وزیراعظم کا ایران کا اہم دورہ، امریکہ اور ایران مذاکرات میں پیشرفت کا امکان

News Image
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی تہران کا دورہ کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی بات چیت کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اس دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے تہران کا ایک اہم دورہ شروع کیا ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کی بحالی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور سفارتی ذرائع کافی عرصے سے کسی بڑی پیشرفت کے منتظر ہیں۔ قطر، جو ماضی میں بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اس بار بھی دونوں متحارب فریقین کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ دورہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری محاذ آرائی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ موجودہ صورتحال کو چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن تاحال کسی بھی قسم کی ٹھوس سفارتی کامیابی یا مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں ہو سکا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، اور قطر کا یہ اقدام اسی تشویش کا عملی جواب معلوم ہوتا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔ تہران میں قیام کے دوران قطری وزیراعظم ایرانی حکام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح واشنگٹن اور تہران کو ایک مرتبہ پھر بات چیت کی میز پر لایا جا سکے تاکہ جوہری معاہدے اور دیگر تنازعات پر کسی پائیدار حل کی طرف بڑھا جا سکے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے، لیکن قطر کا پرزور مطالبہ ہے کہ سفارتی چینلز کو کھلا رکھا جائے تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر قطر کی ثالثی کا کردار عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ شیخ محمد بن عبدالرحمن کا یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ قطر خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کشیدگی کا خاتمہ بات چیت کے ذریعے ہی کیا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان برف پگھلتی ہے یا یہ کوششیں بھی طویل سفارتی تعطل کا شکار رہتی ہیں۔