World
فلسطینی فنکار سلیمان منصور کا انتقال، عالمی سطح پر خراج تحسین
معروف فلسطینی مصور سلیمان منصور انتقال کر گئے جنہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں پورے سرکاری اور عوامی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ وہ اپنی پینٹنگز کے ذریعے فلسطینیوں کی جدوجہد اور ان کی مشکلات کی عکاسی کرنے کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔
فلسطینی عوام نے اپنے عظیم اور ممتاز مصور سلیمان منصور کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سلیمان منصور، جنہیں فلسطینی فنونِ لطیفہ کا ایک روشن ستارہ مانا جاتا تھا، کو مقبوضہ مغربی کنارے میں منعقدہ ایک پروقار عوامی جنازے کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ان کی وفات نے نہ صرف فلسطین بلکہ عالمی آرٹ کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے، کیونکہ وہ محض ایک مصور نہیں بلکہ فلسطینی قوم کی جدوجہد، صبر اور استقامت کی علامت تھے۔ سلیمان منصور کی فنی خدمات کو ہمیشہ فلسطین کی تاریخ میں سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔
سلیمان منصور کی شہرت کا سب سے اہم سبب ان کی وہ پینٹنگز ہیں جن میں انہوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات اور آزادی کی تڑپ کو کینوس پر اتارا۔ خاص طور پر 'اونٹ اور مشکلات' جیسی شاہکار تخلیقات کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دیا کہ کس طرح ایک فلسطینی قوم ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہے۔ ان کی پینٹنگز میں زیتون کے درخت، فلسطینی دیہات اور کسانوں کی زندگی کو جس مہارت سے پیش کیا گیا، اس نے انہیں عالمی سطح پر ایک منفرد پہچان دی اور فلسطینی بیانیے کو دنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کے جنازے میں شرکت کرنے والے افراد نے انہیں ایک ایسا فنکار قرار دیا جس نے اپنے برش کے ذریعے فلسطین کے دکھوں کو قلمبند کیا۔ مقامی فنکاروں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سلیمان منصور کی موت ایک بڑے عہد کا خاتمہ ہے، تاہم ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ انہوں نے زندگی بھر فن کو مزاحمت کا ہتھیار بنائے رکھا اور اپنی مصوری کے ذریعے یہ باور کرایا کہ آرٹ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ان کے انتقال پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی دنیا بھر سے فنکاروں نے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں ان کی آخری رسومات کے موقع پر فضا سوگوار رہی، جہاں ان کے چاہنے والوں اور فن کے شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فلسطینی ثقافتی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ سلیمان منصور کے کام کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ ان کا پیغام نئی نسل تک منتقل ہو سکے۔ ان کی خدمات فلسطین کے ثقافتی ورثے کا لازمی حصہ رہیں گی اور ان کا نام ہمیشہ ایک ایسے فنکار کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنے فن کو اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کی آزادی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔