World
لیزا کک اور ڈونلڈ ٹرمپ تنازعہ: مارگیج فراڈ کے الزامات پر ردعمل
فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے مارگیج فراڈ کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حق میں فیصلے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے اوپر عائد کردہ مارگیج فراڈ کے الزامات کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔ لیزا کک نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور سیاسی محرکات کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ماضی اور پیشہ ورانہ کیریئر شفافیت پر مبنی رہا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی سیاسی حلقوں میں گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جس کے اثرات اب ملکی معاشی اداروں تک پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کے قریبی ساتھیوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باوجود لیزا کک کے خلاف اپنے جارحانہ مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں لیزا کک کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان پر لگائے گئے تمام تر الزامات کو مسترد کر دیا تھا، تاہم ٹرمپ کی جانب سے مسلسل تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال دراصل فیڈرل ریزرو کی خود مختاری پر سوال اٹھانے کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے موجودہ انتظامیہ اور مرکزی بینک کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی سرکاری عہدیدار کے خلاف بے بنیاد الزامات کا تسلسل عدالتی فیصلوں کے تقدس کو متاثر کر سکتا ہے۔ لیزا کک نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ فیڈرل ریزرو کی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور ان کا ادارہ کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا رہے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ ان الزامات سے مرعوب ہونے والی نہیں ہیں اور ملکی معاشی استحکام کے لیے اپنے فرائض منصبی انجام دیتی رہیں گی۔
اس تنازعے نے واشنگٹن میں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، جہاں ایک طرف ٹرمپ کے حامی اس معاملے کو انتخابی مہم کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سلسلہ یہیں تھم جاتا ہے یا یہ قانونی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی۔ فی الحال لیزا کک کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کسی بھی فورم پر جانے کے لیے تیار ہیں۔