LIVE
Loading Breaking News...

پیلستائن ایکشن کے خلاف امریکی پابندیاں، ہدیٰ عموری کا ردعمل

News Image
امریکا نے فلسطین کے حق میں کام کرنے والی تنظیم پیلستائن ایکشن کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تنظیم کی بانی ہدیٰ عموری نے امریکی اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے فلسطین کے حق میں سرگرم کارکنوں کے گروپ 'پیلستائن ایکشن' (Palestine Action) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اور گروپ پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے گروپس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس گروپ کی کارروائیاں ملکی قوانین کے منافی ہیں اور ان سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب پیلستائن ایکشن کی شریک بانی ہدیٰ عموری نے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے امریکی حکومت کے اس اقدام کو 'مضحکہ خیز' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ہدیٰ عموری کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم صرف انسانی حقوق کی پامالی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف پرامن احتجاج اور آگاہی مہم چلاتی ہے، لہٰذا اسے دہشت گرد قرار دینا حقیقت کے برعکس اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی پابندیاں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ اس فیصلے کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فلسطین نواز گروپس کو مغربی ممالک میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پیلستائن ایکشن کو دہشت گرد قرار دینا عالمی سطح پر آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے حق کو محدود کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ہدیٰ عموری نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ اقدام دراصل فلسطین کے مظلوم عوام کی آواز دبانے کا ایک طریقہ ہے، لیکن ان کا گروپ اپنے اہداف پر ثابت قدم رہے گا اور کسی بھی قسم کی پابندیوں کے باوجود فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان امریکی پابندیوں کا اثر گروپ کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر کتنا پڑے گا، تاہم سیاسی تجزیہ کار اسے مغربی دنیا میں بڑھتے ہوئے پرو-فلسطین بیانیے کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے۔ اس پورے تنازعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں اور ریاستی سیکیورٹی کے درمیان حد کہاں ختم ہوتی ہے۔