World
اسماعیل الغول کی یاد اور غزہ کی کہانی سنانے کا عہد
اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے صحافی اسماعیل الغول کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ غزہ کی مظلومیت کی داستان دنیا تک پہنچانے کا سلسلہ نہیں روکا جائے گا۔ دو سال گزرنے کے باوجود اس وعدے پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کی آواز دبنے نہ پائے۔
غزہ کی پٹی پر جاری مظالم اور انسانی المیے کے درمیان صحافیوں کا کردار ہمیشہ سے انتہائی اہم رہا ہے۔ ایسے ہی بہادر صحافیوں میں اسماعیل الغول کا نام سرفہرست ہے، جنہیں اسرائیل نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نباتے ہوئے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کو دو سال بیت چکے ہیں مگر ان کے ساتھیوں اور چاہنے والوں نے ان کے ساتھ کیے گئے وعدے کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔ اسماعیل الغول نے اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک دنیا کو غزہ کے مکینوں کی تکالیف اور مشکلات سے آگاہ کیا اور ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ دنیا اس خطے کی حقیقت سے ناآشنا نہ رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قریبی ساتھیوں نے یہ تہیہ کیا کہ وہ اس مشن کو رکنے نہیں دیں گے۔ اسماعیل کے ساتھ کیے گئے اس عہد کے تحت غزہ کی کہانی کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ صحافتی برادری کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ غزہ میں سچ بولنا اور اسے کیمرے کی آنق سے محفوظ کرنا روزانہ کی بنیاد پر موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود، صحافیوں کی نئی کھیپ اور پرانے ساتھی اس خطرناک ماحول میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر انہوں نے یہ آواز اٹھانا بند کر دی تو یہ اسماعیل الغول اور غزہ کے دیگر تمام شہداء کی قربانیوں سے غداری ہوگی۔ آج بھی جب غزہ کے اسپتالوں، تباہ شدہ گھروں اور پناہ گزین کیمپوں سے خبریں باہر آتی ہیں، تو اس کے پیچھے انہی محنتی اور جفاکش صحافیوں کا خون اور پسینہ شامل ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا تنظیموں کو بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ غزہ کے صحافی کس قدر نامساعد حالات میں کام کر رہے ہیں۔ اسماعیل الغول کی یاد ہمیں یہ یاد دلاتی رہتی ہے کہ سچائی کو دبایا نہیں جا سکتا اور جب تک غزہ میں ظلم جاری ہے، اس کی داستان سنانے والے بھی ہر قیمت پر موجود رہیں گے۔