LIVE
Loading Breaking News...

ترجمان دفتر خارجہ کا آرمی چیف کے دورہ ایران پر مؤقف

News Image
ترجمان دفتر خارجہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورہ ایران کو امریکہ کا خصوصی ایلچی قرار دیے جانے والے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بے بنیاد خبریں حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے حال ہی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف کے دورہ ایران کے حوالے سے میڈیا میں زیر گردش ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں انہیں امریکہ کا خصوصی ایلچی قرار دیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیاں نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ صورتحال کو جان بوجھ کر مسخ کرنے کی ایک کوشش بھی ہیں۔ پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات خطے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک دو طرفہ امور پر باقاعدگی سے بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں گرم تھیں کہ پاکستان کے آرمی چیف نے تہران کا دورہ ایک سفارتی مشن کے تحت کیا تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا جا سکے۔ اس حوالے سے مختلف مبصرین نے مختلف آراء کا اظہار کیا تھا اور بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس دورے کا مقصد خطے میں ایک نئی جنگ بندی یا امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم، اسلام آباد کی جانب سے ان تمام خبروں کو کلی طور پر مسترد کر دیا گیا ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی و عسکری سطح پر رابطے معمول کا حصہ ہیں۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ترجمان نے میڈیا اداروں اور تجزیہ کاروں پر زور دیا کہ وہ مصدقہ اطلاعات کے بغیر ایسی حساس نوعیت کی خبریں پھیلانے سے گریز کریں جو دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔