LIVE
Loading Breaking News...

سی آئی اے چیف جان ریٹکلف کا ماسکو کا خفیہ دورہ اور نیٹو سے متعلق انتباہ

News Image
امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے روس کا ایک خفیہ اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد روسی حکام کو نیٹو اتحادیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے سختی سے منع کرنا تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ جان ریٹکلف نے حال ہی میں روس کا ایک انتہائی خفیہ اور غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد روسی قیادت کو براہ راست یہ پیغام دینا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو پر کسی بھی ممکنہ حملے کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان اہم تزویراتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جان ریٹکلف نے روسی انٹیلی جنس کے ہم منصبوں سے ملاقات کی۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس قسم کے براہ راست رابطے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور کسی بڑی عسکری تصادم کی روک تھام کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ دورے کے دوران ماسکو کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ نیٹو کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے امریکہ انتہائی سنجیدہ ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اس دورے کو لے کر بین الاقوامی سطح پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اگرچہ غیر معمولی تھا لیکن عالمی سلامتی کے موجودہ تناظر میں اسے ایک اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیٹیکو اور سی این بی سی کی رپورٹس کے مطابق اس خفیہ دورے میں ایران اور دیگر علاقائی امور پر بھی بات چیت کی گئی تاکہ کشیدگی کو ایک خاص حد تک محدود رکھا جا سکے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس دورے کی مکمل تفصیلات تو تاحال صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس کا مقصد عالمی امن اور نیٹو کے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سیاست میں ایک بڑی ہلچل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ روس اور مغرب کے درمیان تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔